Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح کائنات گویا دین توحید کا عملی مظاہرہ بن گئی ہے۔ وہ عمل کی زبان میں بتا رہی ہے کہ انسان کی زندگی کو کیسا ہونا چاہیے۔ انسان کی زندگی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا صرف ایک مرکز ہو۔ اور وہ ایک خدا ہو۔ آدمی کے جذبات، اس کی سوچ، اس کی سرگرمیاں، اس کا سب کچھ خدا کے گرد گھومنے لگیں۔ آدمی اگر اپنی زندگی کا مرکز و محور اپنی ذات کو بنائے تو کائنات بزبان حال اس کو رد کر رہی ہے۔ اسی طرح اگر وہ اپنی ذات کے باہر کسی کو اپنی تو جہات کا مرکز و محور بنائے تو موجودہ کائنات کے ڈھانچے میں وہ قابلِ رد قرار پا رہا ہے۔ کائنات کا موجودہ ڈھانچہ ایک ہستی کے سوا کسی دوسرے کی مرکزیت کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ کائنات زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ ”ایک“ کو اپنا مرکز تو جہ نہ بناؤ نہ کہ ایک کے سوا کئی کو۔ فطرت کی پکار برٹرینڈ رسل (1970-1872) ایک انگریز مفکر ہے۔ وہ موجودہ زمانہ کا بہت بڑا ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی سوانح عمری بتاتی ہے کہ انسان بظاہر خواہ کتنا ہی بڑا ملحد ہو جائے وہ اپنے آپ کو خدائی فطرت سے آزاد نہیں کر سکتا۔ برٹرینڈ رسل 1952ء میں یونان گیا۔ اس سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ یہ یونان کا میرا پہلا سفر تھا اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ میرے لیے بے حد دلچسپی کا باعث تھا۔ ایک پہلو سے تو مجھے خود تعجب ہوا۔ وہ عظیم اور ٹھوس کا میا بیاں جن کو دیکھ کر ہر شخص متاثر ہوتا ہے میں بھی متاثر ہوا۔ پھر میں نے اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے چرچ میں پایا۔ یہ اس وقت کی یادگار تھا جب کہ یونان بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ مجھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page