Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ قسم کے واقعات کی مشینی تعبیر کی تردید ہیں۔ ہماری مشینوں کو چلانے کے لیے ہمیشہ ایک انسان درکار ہوتا ہے۔ پھر کیوں کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی عظیم مشین کسی چلانے والے کے بغیر چل رہی ہے۔ اس قیاس کے لیے کوئی نظیر موجود نہیں۔ کائنات ایک سائنس داں کے الفاظ میں بالفرض ایک ”گریٹ مشین“ (Great Machine) ہو تب بھی اس کو چلانے کے لیے ایک ”گریٹ مائنڈ“ (Great Mind) چاہیے۔ انسان مجبور ہے کہ خدا کو مانے، خواہ مذہبی زبان میں خالق و مالک کی حیثیت سے یا سائنسی الفاظ میں مشین کو چلانے والے انجینئر کی حیثیت سے۔ کائناتی وحدت کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات ایک مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایٹم کا ایک نیوکلیس ہے۔ اور ایٹم کا پورا ڈھانچہ اس نیوکلیس کے گرد گھومتا ہے۔ شمسی نظام کا مرکز سورج ہے اور اس کے تمام سیارے اور سیارچے مسلسل اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اسی طرح کہکشاں کا ایک مرکز ہے اور کہکشاں کے اربوں ستارے اس مرکز کے گرد حرکت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پوری کائنات کا ایک مرکز ہے اور پوری پھیلی ہوئی کائنات اپنی ذیلی حرکتوں کے ساتھ اس آخری مرکز کے گرد حرکت کر رہی ہے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ کائناتی مرکز ایک روز اپنے گرد کی تمام چیزوں کو کھینچنا شروع کرے گا اور پھر یہ ناقابلِ قیاس حد تک پھیلی ہوئی عظیم کائنات اپنے مرکز کی طرف سمٹنا شروع ہوگی اور بالآخر وہ وقت آئے گا کہ سارے کائناتی اجسام اس طرح سمٹ کر ایک مرکزی گولے کی صورت اختیار کر لیں گے جیسے بکری ہوئی کیلوں کے درمیان مقناطیس لایا جائے اور سب کیلیں سمٹ سمٹ کر اس سے جڑ جائیں۔ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ (21: 104)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page