جب پردہ کھلے گا
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
مانتے تھے کہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام دینے والا آتا ہے۔ حتی کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو آنے والے پیغمبر خدا کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔ وہ اس کی یاد میں پرجوش تقریریں کرتے تھے مگر جب وہ آنے والا آیا تو انھوں نے اس کو نہیں پہچانا۔ انھوں نے حقارت کے ساتھ اس کو رد کر دیا۔ چونکہ وہ تقلید آبا کی سطح پر جی رہے تھے، وہ صرف ان پچھلے پیغمبروں کو پہچان سکے جن کا نام ان کے آبائی مذہب میں شامل تھا۔ جو ان کی قومی تقلید کا حصہ بن چکا تھا۔ جو انھیں تاریخی روایات کے تسلسل میں مل رہا تھا۔ وقت کا پیغمبر ابھی ان اضافی خصوصیات سے خالی تھا اس لیے وہ ان کو دکھائی بھی نہیں دیا۔ وقت کے نمائندہ خدا کو پہچاننے کے لیے جو ہر شناسی کی صلاحیت درکار تھی اور یہ لوگ اس سے محروم تھے، پھر وہ وقت کے پیغمبر کو کس طرح پہچانتے۔ یہ سب کرتے ہوئے وہ مذہب کا جھنڈا ابھی اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ پچھلے پیغمبروں کا مومن ہونے پر فخر کرتے تھے۔ عوام کے درمیان وہ خدا کے دین کے سب سے بڑے حامی بنے ہوئے تھے۔ مگر خدا کے یہاں وہ بالکل بے قیمت قرار پائے۔ کیوں کہ ان کا مذہب آبا کی تقلید کی سطح پر پیدا ہوا تھا نہ کہ حقیقت کے اعتراف کی سطح پر۔ آخرت میں جب ان پر کھلے گا کہ انھوں نے جس کو نظر انداز کیا وہی وہ تھا جس کی زبان سے خدا نے اپنا کلام جاری کیا تھا۔ جو دنیا میں خدا کا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا تو یہی واقعہ ان کی ابدی روسیاہی کے لیے کافی ہو گا۔ وہ کہیں گے کہ ہائے ہمارا اندھا پن، ہم نے اسی کو نہ دیکھا جس کو ہمیں سب سے زیادہ دیکھنا چاہیے تھا۔ ہم نے اسی کو نہ پہچانا جس کو ہمیں سب سے زیادہ پہچاننا چاہیے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader