Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ریفریجریٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں۔ اس کے بعد ہمارا کاروبار خوب بڑھا۔ کافی پیسہ ہاتھ آیا۔ اس کے بعد میں نے بارہ روپیہ ماہوار کا گیرج (garage) چھوڑ دیا اور ایک ہزار روپیہ ماہوار کرا یہ پر موجودہ شوروم لیا۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہاں خرچ کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ آپ چند دانے "خرچ" کرتے ہیں تو کھیت اس کے بدلے میں آپ کو ہزاروں دانے لوٹاتا ہے۔ کاروبار میں آدمی روپیہ لگاتا ہے تو وہ کئی گنا زیادہ ہو کر اس کی طرف واپس آتا ہے۔ معاشرہ میں صدقات و خیرات کی صورت میں جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس طرح اضافہ ہو کر آدمی کی طرف لوٹتا ہے کہ اس سے سماج میں باہمی اعتماد، ایک دوسرے کا لحاظ، حقوق کی ادائیگی، دوسرے کے معاملے کو اپنا معاملہ سمجھنا جیسے احساسات پرورش پاتے ہیں اور وہ بے شمار صورتوں میں خود دینے والے کو نفع پہنچاتے ہیں۔ آخرت کے لیے خرچ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر آخرت کی راہ میں خرچ کریں تو وہ دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی صورت میں آپ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ آخرت کی راہ میں خرچ سے جو اضافہ ہوتا ہے وہ سب سے بڑا اضافہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مقدار میں زیادہ ہے بلکہ وہ دائمی بھی ہے۔ آخرت کے سوا کوئی دوسرا اضافہ دائمی نہیں۔ جب پردہ کھلے گا خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان سب کے ساتھ ایک ہی مشترک حادثہ پیش آیا۔ وقت کے اکابر نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ جو لوگ ماحول کے اندر بڑائی کا مقام حاصل کیے ہوئے انھوں نے ان کو قابل التفات نہیں سمجھا۔ وقت کے یہ اکابر سب کے سب وہ لوگ تھے جو خدا کو مانتے تھے۔ وہ اس کو بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page