کائنات مشین نہیں
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن کے ایک دفتر میں ایک روبوٹ رکھا گیا تھا کہ وہ چپراسی (office boy) کے طور پر کام کر سکے یہ روبوٹ جب تیار ہو کر دفتر میں آیا تو دفتر کی خاتون سکریٹری مس جینی سیف (Jennie Seff) نے اس کو آزمائشی حرکت (Trial Run) دینا چاہا۔ وہ روبوٹ کی بیٹری جانچ رہی تھیں کہ روبوٹ حرکت میں آگیا۔ وہ سکریٹری کے پیچھے چلنے لگا۔ اب یہ صورت ہوئی کہ خاتون سکریٹری آگے آگے بھاگ رہی ہیں اور آہنی مشین ان کو پیچھے سے دوڑارہی ہے۔ روبوٹ اس طرح چل رہا تھا گویا اس نے کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس بھاگ دوڑ میں نیا ٹائپ رائٹر ٹکرا کر زمین پر گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔ بالآخر بڑی مشکل سے روبوٹ کو قابو میں لایا گیا (ہندوستان ٹائمس، 30 جون 1981ء)۔ موجودہ زمانہ میں جولوگ خدا کو نہیں مانتے ان کا کہنا ہے کہ کائنات اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بہت بڑی مشین ہے۔ وہ بس اسی طرح چل رہی ہے جس طرح کوئی ”روبوٹ‘‘ میکانکی طور پر چلتا ہے۔ مگر کائنات کا کھرب ہاکھرپ سال سے انتہائی منظم طور پر یکساں حالت میں چلنا اس مفروضہ کی تردید کر رہا ہے۔ اگر کائنات محض ایک میکانکی مشین ہوتی جیسے روبوٹ، تو یقینا اس میں بار بار اسی قسم کے ٹکراؤ ہوتے جیسا کہ لندن کے آفس میں مذکورہ بالا واقعہ کی صورت میں ہوا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔ یہ زبردست علیم ہستی کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرادی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے۔ نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی۔ ہر ایک اپنے خاص دائرہ میں گردش کرتے ہیں (40-36:36)۔ قرآن کا یہ بیان موجودہ زمانہ میں ایک ثابت شدہ انسانی مشاہدہ بن چکا ہے اور یہی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ یہاں ایک باشعور ہستی ہے جو کائنات کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس کے بغیر کائنات کے اندر یہ تنظیم اور یہ باقاعدگی اتنی کامل صورت میں ممکن نہ ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader