Urdu book · اللہ اکبر

معبود کی طلب

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

معبود کی طلب روس کے خلائی مسافر اندرن نکولائیف (2004-1929ء) اگست 1962 میں جب ایک خلائی پرواز سے واپس ہوئے تو 21 اگست کو ماسکو کی ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا: جب میں زمین پر اترا تو میرا جی چاہتا تھا کہ میں زمین کو چوم لوں انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے زمین پر جو بے حساب موافق سامان جمع ہیں وہ معلوم کائنات میں کہیں بھی نہیں۔ روسی خلا باز جب زمین سے دور خلا میں گیا تو اس نے پایا کہ وسیع خلا میں انسان کے لیے صرف حیرانی اور سرگشتگی ہے۔ وہاں انسان کے سکون اور حاجت برآوری کا کوئی سامان نہیں۔ اس تجربہ کے بعد جب وہ زمین پر اترا تو اس کو زمین کی قیمت کا احساس ہوا، ٹھیک ویسے جیسے شدید پیاس کے بعد آدمی کو پانی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ زمین اپنے تمام موافق امکانات کے ساتھ اس کو اتنی محبوب معلوم ہوئی کہ اس کا جی چاہا کہ اس سے لپٹ جائے اور اپنے جذبات محبت کو اس کے لیے نثار کر دے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں اللہ بنانا کہا گیا ہے۔ آدمی خالق کو نہیں دیکھتا، اس لیے وہ مخلوق کو اپنا الہ بنا لیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے، جو اس حقیقت کو جان لے کہ یہ جو کچھ نظر آ رہا ہے۔ یہ کسی کا دیا ہوا ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب کسی برتر ہستی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ وہ مخلوق کو دیکھ کر اس کے خالق کو پالے اور خالق کو اپنا سب کچھ بنالے۔ وہ اپنے تمام بہترین جذبات کو خدا کے لیے نثار کر دے۔ روسی خلا باز پر جو کیفیت زمین کو پا کر گزری وہی کیفیت مزید اضافہ کے ساتھ آدمی پر خدا کو پا کر گزرنا چاہیے۔ مومن وہ ہے جو سورج کو دیکھے تو اس کی روشنی میں خدا کے نور کو پالے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی لامحدودیت کا مشاہدہ کرنے لگے۔ وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page