الفاظ کم ہو جاتے ہیں
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
آگیا۔ اس پورے عمل کی تصویر لی جاتی رہی اور پیدائش کے بعد اس کو مکمل طور پر ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔ ٹیوب بے بی (لوئس براؤن) کے باپ سے اس پورے واقعے پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس نے کہا بیوٹی فل یعنی بے حد حسین ۔ اس ایک لفظ کے سوا وہ کچھ اور نہ کہہ سکا۔ غم کی گھٹنا خوشی سے زیادہ بڑی گھٹنا ہوتی ہے۔ انڈین نیوی کے ایک افسر کی اہلیہ مسز اوما چوپڑہ کو 26 اگست 1978 کو جب معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بچے گیتا (17 سال) اور سنجے (15 سال) کوئی دہلی میں وحشیانہ طور پر کسی نے قتل کر دیا ہے تو اس کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ سات گھنٹے تک وہ ایک لفظ نہ بول سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاثر جتنا شدید ہو الفاظ اتنے ہی کم ہوجاتے ہیں۔ بے حد خوشی ہو تب بھی آدمی زیادہ بول نہیں پاتا اور بے حد غم ہو تب بھی زیادہ بولنا آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ جو لوگ دین وملت کے غم میں ہر روز الفاظ کے دریا بہاتے رہتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ دین وملت کے غم میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔ جو شخص درد و غم میں مبتلا ہو اس کو تو چپ لگ جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظی اکھاڑوں میں لسانی پہلوانی کے کرتب دکھانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کو نہ اس کے منعم کے روپ میں پایا ہے اور نہ منتقم کے روپ میں ۔ اگر وہ دونوں میں سے کسی روپ میں بھی خدا کو پالیتے تو یہ صورت باقی نہ رہتی کہ ہر آدمی ایسے الفاظ کا بھنڈار بنا ہوا ہے جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader