Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

مقررہ اعمال کو بس رسمی طور پر دہرالے۔ آدمی کی زبان کچھ الفاظ بولے مگر وہ الفاظ اس کے دل کی دھڑک کن نہ بن رہے ہوں۔ آدمی اپنے ہاتھ پاؤں سے کچھ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کی روح کو نہ چھوئے۔ اس کی حرکات وسکنات اس کے دل ودماغ میں ارتعاش نہ پیدا کریں۔ اس کے برعکس ، ہونا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے لیے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔ اس کی اندرونی ہستی کو بار بار کیفی غذائیں مل رہی ہوں۔ اس کا جسمانی عمل اس کے غیر جسمانی وجود میں ہل چل پیدا کر رہا ہو۔ وہی کرنا کرنا ہے جس کے درمیان آدمی خود بھی کچھ ہورہا ہو۔ جو کرنا ہونا نہ بنے، حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ گویا ایک ایسا پتھر ہے جو بظاہر پانی سے بھیگ رہا ہے مگر وہ پانی کا مزہ نہیں پاتا۔ الفاظ کم ہوجاتے ہیں مسٹر لزلی براؤن شمالی انگلستان کے ایک ٹرک ڈائینور ہیں۔ وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی بیوی کے جسمانی نظام میں بعض حیاتیاتی فرق کی وجہ سے دونوں کا مادہ حیات رحم مادر میں یک جا نہیں ہوتا تھا۔ وہ اولاد کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے کہ عین وقت پر سائنس نے ان کی مدد کی۔ لندن کے ڈاکٹر پیٹرک اسٹیپٹو جو بر سہابرس سے اس میدان میں تجربہ کررہے تھے۔ انھوں نے اپنی لیبارٹری میں لزلی براؤن کا مادہ تولید (sperm ) نکالا اور مسز براؤن کے جسم سے ایک بیضہ لیا۔ دونوں کو انھوں نے ایک خصوصی قسم کے ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا۔ قدرتی قانون کے تحت وہ دونوں مل کر زرخیز ہوگئے ۔ چار روز کے بعد ڈاکٹر نے اس کو مصنوعی طور پر رحم مادر میں پہنچا دیا۔ اب رحم مادر میں اس " بچہ " کی پرورش ہونے لگی ۔ تجربہ کامیاب رہا۔ جولائی 1978 میں تاریخ کا پہلا " test tube baby “ وجود میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page