اللہ اکبر
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی زیادہ مہربان اور طاقت ور خدا ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔ خدا آدمی کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر قبل اس کے کہ آدمی ہلاکت میں پڑے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیتا ہے۔ کیسا عجیب ہے وہ بیٹا جو باپ کی پکار پر یقین نہ کرے۔ کیسا عجیب ہے وہ بندہ جو خدا کے بارے میں اپنا اعتماد کھو دے۔ کوئی فرق نہیں ایک آدمی ایک درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ اس کا ایک دوست ادھر سے گزرا۔ اس نے پکار کر کہا، ”میرے بھائی، تم کیوں نہیں جاتے کہ کچھ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ۔“ ”کس لیے،“ سوئے ہوئے آدمی نے پوچھا۔ ”تاکہ تم ان لکڑیوں کو بیچ کر پیسہ حاصل کرو اور اپنے لیے ایک گدھا خریدو اور پھر لکڑی کو گدھے پر لاد کر گھر گھر بیچو۔ اس طرح ایک وقت آئے گا تم اور نفع کما کر ایک ٹرک خرید لوگے۔ پھر تم اور ترقی کروگے اور تمہارے یہاں آره کی مشین اور بہت سے ٹرک ہو جائیں گے۔“ ”یہ سب کس لیے،“ سونے والے نے دوبارہ پوچھا۔ ”تم لکھ پتی ہو جاؤ گے اور آرام سے رہو گے۔“ ”پھر تمہارا کیا خیال ہے، اب میں کیا کر رہا ہوں“۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ جو آرام ایک آدمی کوٹھی بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے وہی آرام ایک آدمی درخت کے سایہ میں بھی حاصل کر رہا ہے۔ دیکھنے والوں کے نزدیک ضرور دونوں میں فرق ہے۔ مگر خود آرام کرنے والے کے لیے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ درخت کے نیچے سونے والا جس سکون میں ہے وہ کوٹھی والے کو شاید میسر نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader