Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تاجر ایک بار مجھے اپنا نیا مکان دکھانے کے لیے لے گئے۔ کافی بڑا دو منزلہ مکان تھا۔ گھر کے ہر چھوٹے بڑے کے لیے الگ الگ کمرے اور اس کے ساتھ تمام ضروری سہولتیں مہیا تھیں۔ سارے گھر میں قیمتی قالین بچھے ہوئے، تمام دروازے اور کھڑکیاں خوبصورت پردوں سے ڈھکی ہوئی۔ ہر کمرہ میں اعلیٰ درجہ کا فرنیچر ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا گھر جدید سامانوں کی ایک نمائش گاہ ہے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک خوبصورت قید خانہ میں بند کر دیا گیا ہوں۔ یہ مکان ایک کھلی جگہ پر تھا وہ قدرت کی ہر چیز سے خالی اور قسم قسم کی مصنوعی چیزوں سے بھر ہوا تھا۔ ہر طرف بجلی کی روشنی کا اعلیٰ انتظام تھا مگر سورج کی روشنی کو اجازت نہ تھی کہ وہ بند مکان میں داخل ہو۔ ہر کمرہ میں ایر کنڈیشنر لگا ہوا تھا مگر قدرتِ ہوا کا کہیں گزر نہ تھا۔ انسانی آرٹ کے نمونے دیوار پر تھے مگر قدرت کے آرٹ کو دیکھنے کے لیے وہاں کوئی کھڑکی کھلی ہوئی نہ تھی۔ کمرہ میں میوزک کا انتظام تھا مگر باہر کے درخت پر چہچہانے والی چڑیوں کی آواز سننے کے تمام راستے بند تھے۔ جدید تمدن نے انسان کو قدرت سے کتنا دور کر دیا ہے۔ پچپن سال کے بعد طبیہ کالج (قرول باغ، دہلی) نے ایک باررات کی کلاسیں شروع کی تھیں تا کہ ملازمت پیشہ لوگ اس میں داخلہ لے کر طبی کورس کریں اور اپنے خالی اوقات میں پریکٹس کر سکیں۔ انہیں داخلہ لینے والوں میں سے ایک مسٹر رمیش دتہ تھے۔ وہ اکاؤنٹ آفس میں کام کرتے تھے اور اسی کے ساتھ رات کے کلاس میں شریک ہو کر بی آئی ایم ایس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page