پرستش کیا ہے
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
پرستش کیا ہے نیلما دیوی (Nilima Devi) ہندوستان کی ایک رقاصہ ہے۔ وہ رقص کو ایک خدائی آرٹ (Divine art) سمجھتی ہے۔ وہ اپنے فن میں اتنا ڈوبی ہوئی ہے کہ وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ رقص کی صورت میں جو کچھ ظاہر کرنا چاہتی ہے وہ ان کو ظاہر نہیں کر پاتی۔ جسمانی حرکات کی محدودیت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ایک انٹرویو (ہندوستان ٹائمز 30 دسمبر 1983) میں اس نے کہا کہ رقص وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں جسمانی حرکات ختم ہو جاتی ہیں: The dance starts where the gymnastics end. نیلما دیوی کا کہنا ہے کہ وہ رقص کا کام بطور پیشہ کے نہیں کرتی۔ یہ میرے لیے ایک طریق زندگی ہے۔ انٹرویو لینے والے کے الفاظ میں، جب وہ رقص نہیں کرتی تو وہ اپنے آپ کو خالی محسوس کرتی ہے۔ ایسے لمحات میں اس کے پاس کوئی نقطۂ ارتکاز نہیں ہوتا جس میں وہ اپنی زندگی کو مرکوز کر سکے: She says when she is not dancing, she feels empty. There is no focal point in her life at such moments. رقاصہ نے جس چیز کو طریق زندگی (Way of life) کہا، اسی کا دوسرا نام پرستش ہے۔ اوپرد کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فن کی پرستش ایک رقاصہ کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ اس کے اندر گہرے جذبات پیدا کر دیتی ہے ۔ وہ رقص کو اس کے لیے زندگی بنا دیتی ہے۔ اس کے اندر جذبات کا ایسا طوفان برپا ہوتا ہے جس کے اظہار سے وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے رقص کے ذریعہ وہ کچھ کہہ سکی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی زندگی خالی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader