Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جاتی ہے ۔ اس سے الگ ہو کر وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا مرکزی نقطہ باقی نہیں رہا جہاں وہ اپنے وجود کو سمیٹ سکے ۔ خدا کی پرستش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ وہ ایک خدائی رقص ہے ۔ جب کوئی بندہ اپنے رب کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے اتنا عظیم واقعہ ہوتا ہے کہ وہ رقص کرتا اٹھتا ہے ۔ اس کا وہی حال ہو جاتا ہے جو مذکورہ مثال میں فن کے پرستار کا نظر آتا ہے ۔ خدا اس کے تمام وجود کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے ۔ خدا سے الگ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ۔ خدا کے بارے میں اس کے اندر ایسے گہرے جذبات اٹھتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لیے وہ الفاظ نہ پا سکے ۔ اللہ سے ڈرنے والے دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو اللہ کے ڈر سے خالی ہوں ۔ ایسے لوگ خواہ زبان سے اللہ کا نام لیتے ہوں ، مگر ان کے سینہ میں اللہ کے ڈر کا کوئی خانہ نہیں ہوتا ۔ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں ۔ ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کے نفع نقصان کا ہوتا ہے ۔ جس کام میں نفع نظر آئے اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو اس سے رک جانا ، یہ ان کا مذہب ہوتا ہے ۔ کسی چیز کا اصولی طور پر برحق ثابت ہو جانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ وہ ہمیشہ ”دلیل“ کے بجائے ”مفاد“ کو اصل اہمیت دیتے ہیں ۔ کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کیوں کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں ۔ وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لیے کہے ۔ اور وہاں اکڑ جاتے ہیں جہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے ۔ وہ اللہ سے بے خوف زندگی گزارتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تا کہ اللہ کی عدالت میں حساب دینے کے لیے کھڑے کر دیے جائیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page