Urdu book · اللہ اکبر

جنت والے

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

توفیق انہیں دنیا کی زندگی میں ملی تھی: وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِھًا (2:25)۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ جنت دوزخ دراصل انسان ہی کے اعمال ہیں جو آدمی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں: اِنَّمَا هِيَ اَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ اِلَيْكُمْ (حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفيام، جلد 5، صفحہ 125)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے۔ جنتی انسان اپنی جنت کو اسی دنیا میں پال لیتا ہے۔ گویا کہ جنت کا ایک مثنیٰ اسی دنیا میں ہے اور آخرت کی جنت میں وہی شخص جائے گا جس نے دنیا میں جنت کے اس مثنیٰ کو پالیا ہو ۔ جنت کا یہ دنیوی مثنیٰ گویا نقد انعام ہے جو اصل انعام سے پہلے اس کی ایک ابتدائی علامت کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔ یہ جنتی کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کا تجربہ کیا ہو جو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں۔ جس کے رونگٹے کھڑے ہو کر اس کو خدائی محاسبہ کا احساس دلا چکے ہوں۔ جس کے قلب پر ٹکڑے کر دینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربتِ خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض وانتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفوِ خداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے اپنے ندامت کے آنسوؤں میں وہ منظر دیکھا ہو جب کہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعترافِ قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔ جس پر یہ لمحہ گزرا ہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لیے چھوڑ دے کہ اس کا خدا بھی اس دن اسے چھوڑ دے جب کہ وہ اس سے زیادہ عجز کی حالت میں ہوگا۔ جو ایک امر حق کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔ مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزر جاتے ہیں جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page