Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

دینے پر تیار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی ترقی دیکھ کر آدمی کے اندر حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ ناحق اپنے بھائی کی بربادی کے درپے ہو جاتا ہے۔ اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مظلوم ہے اس کے دل میں ظالم کے خلاف آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ اس کی زیادتیوں کو بھولنے اور اس کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے مواقع پر دل کے زخم کو بھلا دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ لیکن اگر آدمی ایسا کرے کہ معاملہ کو اللہ کے اوپر ڈال دے ، وہ اللہ کی خاطر اس کو برداشت کر لے تو اس کا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پا کر رہے گا۔ ایک شخص جب کسی کو ایک قول دیتا ہے تو گویا وہ اس کو ایک بینک چیک دے رہا ہے جو عمل کے وقت کیش کیا جا سکے۔ مگر جب عمل کے وقت وہ اپنے قول سے پھر جاتا ہے تو گویا اس نے کاغذی چیک تو لکھ دیا مگر جب کھاتہ سے اس کی رقم لینے کا وقت آیا تو اس نے ادائیگی سے انکار کر دیا۔ ایسا تجربہ کسی انسان کے لیے تلخ ترین تجربہ ہے۔ لیکن اگر وہ صبر کر لے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کا بدلہ دے گا جو چیک انسانی بینک میں کیش نہ ہو سکا وہ خدائی بینک میں کیش ہوگا ، خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جنت والے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا اس کی معرفت انہیں اسی دنیا میں کرائی جا چکی ہوگی : وَیُدْخِلُھُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَھَا لَھُمْ (47:6)۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ جنت کا رزق اس رزق کے مشابہ ہوگا جس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page