اللہ اکبر
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کا دینی نام محاسبہ ہے۔ انسان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ ایک "خود رو گھاس" بھی اس کے اندر سے اگنا شروع ہوتی ہے۔ اس خود رو گھاس کو جاننا اور اس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کا انجام وہی ہوگا جو بغیر سلائی کے ہوئے کھیت کا۔ کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آجائیں تو اس کے اندر بے جا خود اعتمادی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح دولت کے ساتھ بخل، علم کے ساتھ فخر، مقبولیت کے ساتھ ر یا اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں گویا خود رو گھاس ہیں جو کسی آدمی کی خوبیوں کو کھا جانے والی ہیں۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اپنا نگراں بن جائے اور جب بھی اپنے اندر کوئی "خود رو گھاس" اگتے ہوئے دیکھے تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دے۔ جو شخص اپنے اوپر محاسبہ کا عمل نہ کرے گا وہ یقینی طور پر اس دنیا میں برباد ہو جائے گا۔ وہ ایسا کھیت ہوگا جس کی فصل تباہ ہوگئی ، وہ ایسا باغ ہوگا جس کی ساری بہار خزاں میں تبدیل ہوگئی۔ ثواب جن لوگوں کو اللہ نے پیسہ دیا ہے وہ عام طور ایسا کرتے ہیں کہ اپنے ملازموں اور ماتحت کارکنوں کی تو صرف واجبی تنخواہ یا اجرت دیتے ہیں۔ دوسری طرف کانفرنس یا ریلیف فنڈ یا مشہور اداروں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خوش ہوتے ہیں۔ اگر ان سے پوچھے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ملازم یا کارکن کو جو رقم دی جاتی ہے تو وہ ان کے کام کی اجرت ہوتی ہے۔ اس پر ہم کو ثواب نہیں ملے گا۔ انھوں نے ہماری خدمت کی اور ہم نے ان کو معاوضہ دے دیا۔ اس پر ثواب کیسا۔ یہ تو دونوں طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader