Urdu book · اللہ اکبر

ثواب

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ برابر ہو گیا۔ اس کے برعکس، اداروں اور ملی کاموں میں رقم دی جاتی ہے ان کے متعلق یقینی ہے کہ ان پر ثواب ملے گا۔ مگر اس کی تہہ میں اصل بات کچھ اور ہے یہ جواب محض اصل بات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں چھپی خواہش موجود ہے کہ وہ جو کچھ دے اس کا معاوضہ اس کو اسی دنیا میں ملے۔ غریب آدمی یہ معاوضہ پیسہ کی صورت میں چاہتا ہے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ آجاتا ہے ان کو جس معاوضہ کی تمنا ہوتی ہے وہ سماجی حیثیت (social status) ہے۔ یہی وہ چھپی ہوئی خواہش ہے جو اس قسم کے لوگوں کے انفاق کا رخ بڑی بڑی قابل ذکر مددوں کی طرف کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ غریب ملازم یا کارکن یہ معاوضہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کے پاس نہ اخبار ہوتا ہے نہ اسٹیج۔ اس کے پاس اونچی بلڈنگوں والے ادارے ہیں اور نہ استقبال کرنے والا حلقہ۔ مگر ایک شخص جب کسی مشہور ادارہ یا کسی ”عظیم الشان“ ملی مہم میں رقم دیتا ہے تو اس کو امید رہتی ہے کہ اس کو شان دار معاوضہ ملے گا۔ جلسوں کی صدارت، عوامی مواقع پر نمایاں نشست، اداروں میں پر زور استقبال، سماجی حیثیت میں اضافہ، اخباروں میں نام چھپنا اور بڑے بڑے لوگوں کی صف میں جگہ ملنا، وغیرہ۔ ثواب کا تعلق نیت سے ہے نہ کہ قابل تذکرہ مددوں سے۔ ثواب حقیقتاً اس عمل میں ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ ثواب یہ ہے کہ اللہ کی خاطر ایسی مددیں دیا جائے جو لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں۔ ان مواقع پر خرچ کیا جائے جہاں ہر قسم کے دوسرے محرکات حذف ہوجاتے ہیں۔ جس انفاق کا فائدہ اسی دنیا میں وصول کر لیا گیا ہو اس کا فائدہ کسی کو آخرت میں ملے گا تو کیوں ملے گا۔ لوگ دکھائی دینے والے مقامات پر انفاق کر رہے ہیں حالاں کہ خدا ان کے انفاق کو قبول کرنے کے لیے اس مقام پر کھڑا ہوا ہے جو ظاہر پرست انسانوں کو دکھائی نہیں دیتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page