دعا
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سر پرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لیے تھی۔ یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی دعا ہے جو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کرسکیں۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ”بیٹا“ اور ”باپ“ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی ، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں ۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق ۔ ہنس ، بدنس اور داس روؤں ایک ہی درتے کے رت اس کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader