Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

چھپے ہوئے لطیف جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں پالیتا ہے جو اس سے پہلے نہیں پائی تھی۔ وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔ آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے۔ مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جو اس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔ دعا "میرے لیے بائیسکل خرید دیجیے" ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ باپ کے لیے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتارہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا "میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا"۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا " آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں" اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا " اچھا بیٹے، اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا" یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے نئی بائیسکل خرید دی۔ لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سر پرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page