Urdu book · اللہ اکبر

کائنات کی شاہراہ

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کی شاہراہ انسان ایک کامل دنیا کے اندر غیر کامل وجود ہے۔ ستارے اور سیارے ، ہوا اور پانی ، درخت اور جانور سب ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے۔ وہ فطرت کی مقرر شاہراہ سے نہیں ہٹتے۔ اس کے برعکس، انسان فطرت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔ انسان ویسا بنتا ہے جیسا اسے نہیں بننا چاہیے۔ انسان وہ کرتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے۔ انسان کا یہ تضاد سوال بھی ہے اور اسی کے اندر اس کا جواب بھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے تمام مسائل کا سبب یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ سے ہٹ گیا ہے۔ اور اس کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ کو دوبارہ اختیار کرلے۔ فطرت کی جو شاہراہ بقیہ چیزوں کے لیے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ان کو ایک معیاری دنیا میں ڈھال دے، وہی شاہراہ یقینی طور پر اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ وہ انسانی معاشرہ کو معیاری معاشرہ میں تبدیل کر سکے۔ ہماری غیر معیاری دنیا کے باہر جب ایک وسیع تر معیاری دنیا موجود ہے تو یقینی طور پر ہمارے لیے پہلا صحیح ترین انتخاب یہی ہوسکتا ہے کہ ہم اس دنیا کو سمجھیں اور اس کے اصولوں کو اپنی زندگی پر منطبق کریں۔ کائنات کے مطالعہ سے جو واضح ترین بات سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ پوری مادی کائنات ایک متعین قانونِ فطرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مالیکیول سے پانی بننے کا جو اصول ہے وہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ مختلف عناصر کے امتزاج سے کیمیائی مرکبات ہمیشہ ایک ہی لگے بندھے اصول کے تحت بنتے ہیں۔ معدنیات کا پگھلنا اور پانی کا بھاپ بننا ہمیشہ ایک ہی معلوم قانونِ فطرت کے مطابق وقوع میں آتے ہیں۔ یہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page