اللہ اکبر
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کردار کو اس حد تک معلوم اور متعین ہونا چاہیے کہ اس کی پیشین گوئی کی جا سکے ۔ انسان کا کردار قابلِ پیشین گوئی کردار ہونا چاہیے، نہ یہ کہ خواہشات کے تحت وہ کبھی ایک قسم کے کردار کا مظاہرہ کرے اور کبھی دوسرے قسم کے کردار کا۔ اخلاقیات کا ایک ہی صحیح معیار ہے۔ انسان کے لیے بھی اور بقیہ کائنات کے لیے بھی۔ حسن سلوک سماج میں جو لوگ بے سہارا ہو گئے ہوں ان کا سہارا بننا بہت بڑی عبادت ہے۔ ماں باپ آخری عمر کو پہنچ جائیں۔ ایک بچہ یتیم ہو گیا ہو۔ ایک شخص اپنے وطن سے دور سفر کی حالت میں کسی مشکل میں پھنس جائے۔ اس طرح کی دوسری صورتیں جب کہ آدمی کی ضروریات تمام تر دوسروں کے اوپر منحصر ہو جاتی ہیں، اس وقت کسی کی مدد کرنا، ایسے نازک وقتوں میں کسی کے کام آنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا بہت ثواب ہے۔ اس کی اہمیت قرآن سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی۔ اس طرح کے عمل کی اتنی فضیلت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کا عملی اقرار ہے۔ ہر انسان خدا کے سامنے کامل طور پر عاجز ہے۔ ہر آدمی کو خدا کے دئے سے ملتا ہے اور اسی کے چھینے سے چھن جاتا ہے۔ اسی کی معرفت کا نام ایمان ہے اور اسی کو مراسمِ عبودیت کی شکل میں ادا کرنے کا نام پرستش ہے۔ لیکن آدمی اپنے ایمان اور اپنی عبادت میں سچا ہے یا نہیں، اس کی صحیح جانچ اس وقت ہوتی ہے جب کہ ایک کمزور اور بے سہارا انسان سے اس کا سابقہ پڑے۔ ایسے ہر موقع پر گویا ایک شخص ہمارے سامنے اسی حالتِ عجز میں لایا جاتا ہے جس حالتِ عجز میں خود ہم کو خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اپنے جس احتیاج کی بنا پر ہم کسی خدا سے اپنے لیے مدد کے طلب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader