Urdu book · اللہ اکبر

خدا کی طرف سفر

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

جب سفر ختم ہوگا ایکسپریس ٹرین لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل پر پہنچ رہی تھی۔ سٹرک کے دونوں طرف ظاہر ہونے والے آثار بتا رہے تھے کہ آخری اسٹیشن قریب آگیا ہے۔ ٹرین کے سینکڑوں مسافروں میں نئی زندگی پیدا ہوگئی تھی۔ کوئی بستر باندھ رہا تھا۔ کوئی کپڑے بدل رہا تھا۔ کوئی اشتیاق بھری نظروں سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا۔ ہر ایک کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی، ہر ایک آنے والے پر مسرت لمحہ کا منتظر تھا جبکہ وہ ٹرین سے اتر کر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ اچانک زور کا دھماکا ہوا۔ ایکسپریس ٹرین یارڈ میں کھڑی ہوئی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی ۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ۔ خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہوگئیں ۔ زندگیاں موت کی آغوش میں سو گئیں ، امیدوں کے محل کی ایک ایک اینٹ بکھر گئی۔ ایک کہانی جس کا اختتام بظاہر طربیہ (Comedy) پر ہورہا تھا، اپنے آخری نقطہ پر پہنچ کر اچانک المیہ (Tragedy) میں تبدیل ہوگیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ زندگی کا ہے۔ آدمی بے شمار کوششوں کے بعد پُر اعتماد معاشی زندگی بناتا ہے۔ وہ اپنے حوصلوں کو ایک بنے ہوئے گھر کی صورت میں تعمیر کرتا ہے۔ وہ اپنے لیے ایک کامیاب زندگی کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر عین اس وقت اس کی موت آجاتی ہے۔ اپنے گھر کو سونا چھوڑ کر وہ قبر میں لیٹ جاتا ہے۔ اس کا چکنا جسم مٹی اور کیڑے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کی کوششوں کا حاصل اس سے اس طرح جدا ہو جاتا ہے جیسے آدمی اور اس کے درمیان کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ " کوٹھی " کا خواب دیکھنے والا مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ ” قبر “ میں داخل ہو، وہ قبر کے راستہ سے گزر کر حشر کے میدان میں پہنچ جائے۔ یہ دوسری دنیا اس کی آرزوؤں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page