اللہ اکبر
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں وہ اتنا مفلس ہوتا ہے کہ اس کے جسم پر کپڑا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی ساری کمائی اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھی اس سے بچھڑ جاتے ہیں۔ اس کا زور اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز وہاں اس کا ساتھ دینے کے لیے موجود نہیں ہوتی جن کے بل پر وہ دنیا میں گھمنڈ کر رہا تھا۔ آہ وہ سفر بھی کیسا عجیب ہے جو عین اختتام پر پہنچ کر حادثہ کا شکار ہو جائے۔ 25 واں گھنٹہ ایک فرانسیسی مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا نام ہے 25 واں گھنٹہ: 25th Hour اس کتاب میں مصنف نے دنیا کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ دنیا دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو مٹانے کی ایسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس کا آخری نتیجہ صرف انسانیت کی مجموعی ہلاکت ہو ۔ ہتھیاروں کی اندھا دھند ریس نے دنیا کو خطر ناک ہتھیاروں کا گودام بنا دیا ہے۔ مسلسل جنگی تیاریوں نے دنیا کو اپنی بربادی کے آخری کنارے پہنچا دیا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ ہمارا 24 واں گھنٹہ ختم ہو چکا ہے (24th hour is past)۔ اب پچیسواں گھنٹہ (خاتمہ کا گھنٹہ) شروع ہونے والا ہے۔ مصنف نے جو بات "انسانی جنگ" کے بارے میں کہی ہے وہ "خدائی قیامت" کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا کو محدود مدت کے لیے امتحان کے واسطے پیدا کیا ہے۔ یہ مدت صرف خدا کے علم میں ہے، وہ ہم کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں۔ کسی بھی لمحہ خدا اس مدت کے خاتمہ کا اعلان کر سکتا ہے۔ اور اس کے بعد دنیا اور اس کا سارا تمدن عظیم زلزلہ کے ذریعہ تباہ ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد ایک نئی ابدی اور کامل دنیا تخلیق کی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader