Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون کی زد ہمارے ملک میں قانون کی پکڑ سے بچنے کا یقینی ذریعہ رشوت ہے۔ رشوت کے زور پر یہاں سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔ جس آدمی کی جیب میں کافی پیسہ موجود ہے اس کے لیے کوئی بھی غلط کام کر کے اس کے قانونی انجام سے دوچار ہونے کا اندیشہ نہیں۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں اگر چہ اس قسم کی رشوت کا رواج نہیں۔ مگر اصل برائی وہاں بھی پوری طرح موجود ہے۔ ان ملکوں میں قانون کی پکڑ سے بچنے کے لیے ایک مستقل کاروبار قائم ہے جس کو لوپ ہول کاروبار (Loophole Business) کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے دارالسلطنت واشنگٹن میں ایک شخص نے دیکھا کہ شہر میں بہت سی نئی آفس بلڈنگیں کھڑی ہو رہی ہیں۔ اس کو تعجب ہوا۔ کیوں کہ حال میں اس نے اخبار میں پڑھا تھا کہ صدر امریکہ نے دفتری کارکنوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس نے ایک عمارتی ٹھیکیدار سے پوچھا کہ ان عمارتوں کو کس قسم کے لوگ کرایہ پر لے رہے ہیں۔ ٹھیکیدار نے کہا کہ وہ لوگ جو لوپ ہول بزنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ آدمی نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ لوپ ہول بزنس کیا ہے۔ ٹھیکیدار نے جواب دیا، کیا آپ نہیں جانتے۔ واشنگٹن میں دنیا کی سب سے بڑی لوپ ہول انڈسٹری ہے: Washington has the largest loophole industry in the world. اس نے مزید بتایا کہ امریکہ کی مجلس قانون ساز قانون بناتی ہے۔ اب کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر ان قوانین کی زد پڑ رہی ہے۔ انہیں تلاش ہوتی ہے کہ ان میں ایسے قانونی شکاف (Legal loopholes) دریافت کریں جن کے ذریعے وہ ان کی پکڑ سے بچ سکیں۔ ان دفاتر میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے اعلیٰ دماغ بیٹھے ہوئے ہیں جن کا کام یہی قانونی شکاف تلاش کرنا ہے۔ چنانچہ لوپ ہول بزنس آج امریکہ کا بہت بڑا اور منظم بزنس بن چکا ہے (دی ہندو 16 دسمبر 1984)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page