روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں انسان کا مقابلہ انسان سے ہے۔ یہاں وہ جرم کرتا ہے اور پھر رشوت دے کر یا قانون میں لوپ ہول تلاش کر کے اس کی زد سے بچ جاتا ہے۔ پھر اس وقت انسان کا کیا حال ہو گا جب کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے مقابلہ میں پائے گا جہاں نہ کوئی مال کسی کے کام آنے والا ہے اور نہ کسی قسم کی قانونی مہارت۔ خدا کی دنیا میں ایک نو مسلم انگریز نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے 1974 میں حج کا فریضہ ادا کیا۔ یہ سفر میں نے اپنے وطن انگلینڈ سے بذریعہ موٹر کار کیا تھا۔ دسمبر 1973 کی کوئی تاریخ تھی۔ میں اپنی گاڑی چلاتا ہوا سوئٹزرلینڈ پہنچا۔ وہاں زیورک میں میری بہن تھی جس سے مجھے ملنا تھا۔ انگلینڈ میں بائیں چلو (Keep left) کا اصول ہے اور سوئٹزرلینڈ میں دائیں چلو (Keep right) کا اصول۔ میں جب زیورک میں داخل ہوا تو مجھے یاد نہ رہا کہ یہاں مجھ کو اپنی گاڑی سڑک کے دائیں طرف چلانا چاہیے ۔ سابقہ عادت کے مطابق میں سڑک کے بائیں طرف اپنی گاڑی دوڑانے لگا۔ جلدی ہی ایک مقام پر ٹریفک کانسٹیبل نے ویسل دے کر مجھے روکا۔ جب میں رکا تو وہ میرے قریب آیا۔ اس نے میری گاڑی کی پلیٹ دیکھی۔ میرا حلیہ دیکھا۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ انگلش آدمی ہے اور انگلش ہونے کی وجہ سے بائیں طرف گاڑی دوڑا رہا ہے۔ اس نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا جناب، اس وقت آپ انگلینڈ میں نہیں ہیں: Sir, yor are not in England now. یہ واقعہ بظاہر ایک ٹریفک کا واقعہ ہے۔ مگر اس میں آخرت کا ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔ موجودہ دنیا جس میں ہم ہیں وہ خدا کی دنیا ہے۔ مگر انسان اکثر اوقات اس کو اپنی دنیا سمجھ لیتا ہے۔ وہ خدا کی مرضی کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی مرضی اور خواہش کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader