روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
کا پیغام ہے۔ موت ہم کو جینا سکھاتی ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ اپنی حقیقی زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ موت انسانی زندگی کا سب زیادہ عبرت ناک واقعہ ہے۔ وہ آدمی کو آسمان میں اٹھا کر زمین پر گرا دیتی ہے۔ وہ آدمی کو زمین پر ختم کر کے اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ موت کے سامنے ہر آدمی بالکل بے بس ہے، موت کے سامنے کسی بھی شخص کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ واقعہ ہماری زمین پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں پیش آتا ہے۔ مگر انسان غفلت کی ایسی شراب پیے ہوئے ہے کہ اس کے باوجود اس کی مدہوشی ختم نہیں ہوتی۔ آدمی دوسرے کو مٹانے کا منصوبہ بناتا ہے حالاں کہ موت خود اس کو مٹانے کے لیے اس کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے۔ آدمی دوسرے کو برباد کرنے کی سازش کرتا ہے حالاں کہ اپنی سازش کی تکمیل سے پہلے وہ خود موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ آدمی دوسرے کا اعتراف نہیں کرتا ، وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی بڑائی کا تحفظ کر رہا ہے ۔ حالاں کہ اگلے ہی لمحہ موت آ کر اس کی بڑائی کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ انسان ” خدا “ بننا چاہتا ہے مگر موت اس کو بتاتی ہے کہ وہ صرف ایک بے قیمت ” آدمی “ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader