روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کی کامیابیوں کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ گویا کہ وہ اس کامیابی کی نفی کر رہی ہو جس کو آدمی اپنے لیے کامیابی سمجھ کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہ بے قیمت انسان آدمی زندگی چاہتا ہے مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت ہے جو اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ 24 جون کی شام کو ایک طرف شانتی ون میں سنجے گاندھی کا مردہ جسم جلایا جا رہا تھا، دوسری طرف وہاں کھڑے ہوئے ان کے ہزاروں معتقدین یہ نعرہ لگا رہے تھے : جب تک سورج چاند رہے، سنجے تیرا نام رہے انسان "سورج چاند کے رہنے تک" زندہ رہنا چاہتا ہے مگر موت اس قدر بے رحمی کے ساتھ اس کو اس دنیا سے اٹھا لیتی ہے جیسے اس کے نزدیک نہ انسان کی کوئی اہمیت ہے اور نہ اس کی خواہشوں کی۔ انسان اپنی عظمت کا قلعہ تعمیر کرتا ہے مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑا کر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میں اپنا مالک ہوں مگر تقدیر اس کو کچل کر بتاتی ہے کہ تیرا ماللک کوئی اور ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں اپنی آرزوؤں کا باغ اگانا چاہتا ہے مگر موت اس کے منصوبہ کو مٹا کر یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرو کیونکہ موجودہ دنیا میں تمہاری آرزوؤں کی تکمیل نہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا سبق وہ ہے جو موت کے ذریعہ ملتا ہے۔ موت ہماری زندگی کی سب سے بڑی معلم ہے۔ موت ہر آدمی کو ایسے سوال کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے جواب میں زندگی کا تمام راز چھپا ہوا ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا وہ مقام نہیں جہاں ہم اپنی تمناؤں کو حاصل کرنے کی امید کر سکیں۔ موت دراصل زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader