روپیہ سے راکھ تک
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا منصوبہ خدا نے اپنی پسند کی ایک دنیا بنائی اور اس کا نام جنت رکھا۔ یہ جنت ابدی خوشیوں اور راحتوں کی دنیا ہے۔ وہاں نہ دکھ ہے اور نہ شور و غل۔ نہ رنج ہے اور نہ حادثہ۔ وہ ہر قسم کی کلفتوں سے آزاد دنیا ہے ہر قسم کی نعمتیں وہاں بے حساب مقدار میں اکٹھا کی گئی ہیں۔ وہاں آدمی نہ مرے گا اور نہ کبھی اکتائے گا اور نہ کبھی کسی طرح کے غم سے دو چار ہو گا ۔ یہی وہ دنیا ہے جس کی طلب ہر شخص کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر آدمی ایک نا دیدہ جنت کی تلاش میں ہے۔ مگر یہ لا محدود جنت کوئی شخص موجودہ محدود دنیا میں نہیں پاسکتا ہے۔ خدا نے اس جنت کو موت کے بعد آنے والی دنیا میں رکھ دیا ہے۔ تاہم یہ جنت اپنے آپ کسی کو نہیں مل جائے گی۔ یہ صرف اس خوش نصیب آدمی کا حصہ ہے جو موجودہ زندگی میں جنت والے عمل کرے۔ خدا نے ہماری زندگی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہماری زندگی کا مختصر حصہ موجودہ دنیا میں ہے اور اس کا بقیہ تمام حصہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں۔ موجودہ دنیا کو خدا نے عمل کی جگہ بنایا ہے اور بعد کی دنیا کو عمل کا بدلہ پانے کی جگہ۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں آدمی کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی برائے آزمائش ہے نہ کہ برائے انعام۔ جو آدمی وقتی آزادی کی بنا پر غلط فہمی میں نہ پڑے اور اپنے آپ کو حقیقتِ حال کے مطابق بنائے وہ جنت میں بسایا جائے گا۔ اور جو شخص آزادی پا کر سرکشی کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ اس کائنات میں سارا اختیار حقیقۃً صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ ہر آدمی ہر لمحہ اس کی مٹھی میں ہے۔ جو آدمی اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دے وہ جنت کا مستحق بنا۔ اور جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader