Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 354

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص حقیقت واقعہ سے انحراف کر کے خود ساختہ طریقوں پر چلے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ آخرت کی نعمتوں میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ مستقبل کا یقین ڈارٹنگٹن ہال (Dartington Hall) انگلینڈ کا ایک ممتاز اسکول ہے۔ وہاں ایک طالب علم کو (1983 میں) سالانہ پانچ ہزار پونڈ تعلیمی فیس دینی پڑتی ہے۔ اس کے پرنسپل ڈاکٹر بلیکشا (Dr. Lyn Blackshaw) نے 11 جولائی 1983 کو اسکول اسٹاف کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں طلبہ کو اپنی ڈگری بے قیمت معلوم ہونے لگی ہے۔ ان کو یقین نہیں ہے کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد اپنی پسند کے مطابق کوئی روزگار حاصل کر لیں گے۔ اس بے یقینی کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے اندر جھنجھلاہٹ کی نفسیات پیدا ہورہی ہے۔ اور وہ کثرت سے جرائم کرنے لگے ہیں۔ انھوں نے کہا: The worst thing we can do for our children is to destroy their faith in the future. سب سے بری چیز جو ہم اپنے بچوں کے لیے کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ مستقبل کے بارے میں ان کے یقین کو برباد کردیں (سنڈے ٹائمکس، لندن 4 ستمبر 1983)۔ پرنسپل کے اس جملہ پر ہم یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے بعد روزگار حاصل کرنے کا مسئلہ انسان کے "مستقبل" کا صرف ایک چھوٹا سا جزء ہے۔ مستقبل کا مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے موجودہ مرحلہ سے لے کر موت کے بعد کی ابدی زندگی تک چلا گیا ہے۔ انسان کو کامل اطمینان اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ اس کو اس کے پورے مستقبل کے بارے میں پرامید نقطہ نظر مل جائے۔ جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے جتنے غالب افکار ہیں سب نے موت کے بعد ابدی مستقبل کے بارے میں انسان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page