Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

کر رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح بیماریاں، قحط، زلزلے اور طرح طرح کی آفتیں انسان کے منصوبوں کو اس طرح تہس نہس کرتی رہتے ہیں جیسے ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ بظاہر یہ بڑا بے رحمی کا معاملہ ہے۔ مگر اس کے اندر زبردست حکمت چھپی ہوئی ہے۔ یہ تمام ناخوشگوار واقعات اس لیے پیش آتے ہیں کہ انسان کی آنکھ کھولیں۔ وہ انسان کو یاد دلائیں کہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود وہ کس قدر بے بس ہے۔ سب کچھ کا مالک ہونے کے باوجود وہ کتنا زیادہ بے کچھ ہے۔ یہ خرابیاں دراصل بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔ اس طرح ظواہر کا پردہ پھاڑ کر انسان کو اصل حقیقت کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ قیامت میں جو پردہ مکمل طور پر پھاڑ کر آجانے والا ہے وہ حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑ دیا جاتا ہے۔ دنیا کی مصیبتیں انسان کو اس کی بے بسی کی یاد دلاتی ہیں۔ وہ اس کو ذہنی طور پر اس قابل بناتی ہیں کہ وہ حقیقت واقعہ کو پالے اور اس کو مان کر خدا کے انعامات کا مستحق بنے۔ آنے والی ابدی دنیا میں انسان حقیقی طور پر آزاد اور خود مختار ہوگا۔ وہاں وہ ہر قسم کے دکھ اور غم سے مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔ مگر یہ درجہ کسی کو بطور انعام ملے گا نہ کہ بطور استحقاق۔ جس نے اپنے عجز کو جان لیا وہی اس قابل ہے کہ اس کو آزادی کی نعمت عطا ہو۔ جو اپنی بے اختیاری پر راضی ہو گیا اسی نے اس اہلیت کا ثبوت دیا کہ خدا اس کو اپنی معیاری دنیا میں با اختیار بنا کر رکھے۔ یہ تضاد کیوں آسمان کے نیچے ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہ ہے کہ یہاں دادا گیری کی صلاحیت کا استعمال ہے مگر سنجیدگی کی صلاحیت کا کوئی استعمال نہیں۔ یہاں شاطر آدمی اپنی پوری قیمت پالیتا ہے۔ مگر شریف آدمی کو یہاں کوئی قیمت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page