Urdu book · اللہ اکبر

روپیہ سے راکھ تک

Urdu book, p. 358

By Maulana Wahiduddin Khan

کائناتی منصوبہ بندی موجودہ زمانہ میں آواز کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والے ہوائی جہاز بنائے گئے ہیں۔ یہ جہاز بننے کے بعد جب امریکا میں اڑائے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ہوا میں گیسوں کا قیمتی تناسب بدل جاتا ہے۔ چنانچہ امریکا میں اس قسم کے جہازوں کی پرواز پر پابندی لگادی گئی۔ یہی معاملہ انسان کے تمام منصوبوں کا ہے۔ آدمی ایک گھر بناتا ہے مگر جب وہ اس میں رہنا شروع کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فلاں فلاں کی رہ گئی۔ وہ سڑکیں اور لائنیں بچھاتا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ضرورت کے مطابق کرنے کے لیے اس میں فلاں فلاں ترمیم کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انسانی تمدن کے ہر شعبہ میں ترمیم واصلاح کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہ انسانی تعمیرات کا حال ہے مگر کائنات کے عظیم کارخانے کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔ ستارے، زمین، معدنیات، پہاڑ، عرقیات، گیسیں، درخت، جانور، روشنی، حرارت، کشش، انسان وغیرہ۔ یہ چیزیں بے شمار صورتوں میں وسیع کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر وہ اول روز سے انتہائی کامل صورت میں موجود ہیں۔ ان کے خالق کو انہیں پیدا کرنے کے بعد نظرثانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ سورج اور زمین کا فاصلہ، معدنیات میں جواہر کی ترکیب، پانی اور ہوا میں گیسوں کا تناسب، درخت اور پودوں کی نشوونما کا اصول، حیوان اور انسان کا جسمانی ڈھانچہ، غرض ہر چیز اول روز سے کامل اور مکمل ہے۔ کسی چیز میں بھی ادنیٰ نظرثانی کی ضرورت نہیں۔ ہر چیز عین ویسی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے ہونا چاہیے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے جس ہستی نے کائنات کو بنایا ہے وہ قادر مطلق ہے اور اسی کے ساتھ عالم الغیب بھی۔ مکمل قدرت اور غیب سے کامل آگہی کے بغیر ایسا معیاری منصوبہ بنانا ممکن نہیں جس میں کبھی نظرثانی کی ضرورت پیش نہ آئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page