Urdu book · اللہ اکبر

خدا کا داعی

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا داعی ایک سائنس داں ایک بلڈنگ کے اندر ہے۔ اس کے آلات اس کو بتاتے ہیں کہ چند منٹ کے اندر یہاں بھونچال آنے والا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ بلڈنگ کے اندر بعض دوسرے انسانی مسائل بھی ہیں۔ ایسی حالت میں سائنس داں کیا کرے گا۔ اس وقت دوسرے مسائل اس کی نظر میں چھوٹے ہو جائیں گے۔ وہ ان کو بھول جائے گا۔ وہ صرف ایک ہی آواز دے گا ۔ لوگو، چند لمحہ میں بھونچال اس بلڈنگ کو ڈھا دینے والا ہے۔ تم لوگ فوراً بلڈنگ سے نکل کر باہر آجاؤ۔ سائنس داں اس وقت بلڈنگ کے مسائل پر تقریر نہیں کرے گا بلکہ وہ بلڈنگ کو چھوڑنے کا مبلغ بن جائے گا۔ اب دوسری مثال لیجیے۔ ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیے جو کائنات میں ایسے مقام پر کھڑا ہوا ہے جہاں سے وہ ایک طرف ہماری موجودہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اور دوسری طرف جنت کا باغ اور جہنم کی آگ کے مناظر بھی اس کو بخوبی طور پر نظر آرہے ہیں۔ ایسا آدمی اس وقت کیا کرے گا۔ وہ کون سی بات ہوگی جس کے متعلق وہ چاہے گا کہ لوگوں کو اس کی خبر دے۔ یقینی طور پر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ دنیا کے مسائل پر تقریر شروع کردے یا فلاح تمدن کا نسخہ لوگوں کو بتانے لگے۔ اس کے پاس کہنے کو جو سب سے بڑی بات ہوگی وہ صرف یہ ہوگی کہ لوگو، جہنم کی آگ سے بھاگو اور اپنے آپ کو جنت کا مستحق بناؤ۔ ایک شخص اگر اس سے بے خبر ہو کہ ایک سخت بھونچال اگلے لمحہ عمارت کو ڈھا دینے والا ہے تو وہ دوسری باتوں کو مسئلہ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جو شخص بھونچال کو آتے ہوئے دیکھ رہا ہو اس کو بھونچال کے سوا کوئی اور بات یاد نہیں رہے گی۔ حتیٰ کہ وہ ادبی تقاضے کے مطابق شاید جملہ کہنا بھی بھول جائے کہ لوگو، بھونچال آرہا ہے، تم لوگ اپنے آپ کو بھونچال سے بچاؤ۔ وہ سب کچھ بھول کر صرف یہ پکارتا ہوا بھاگے گا کہ ۔ بھونچال، بھونچال۔ خدا کے داعی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جس کو پردہ کے اس پار سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page