Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کی خوشبو آ رہی ہو اور وہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔ ایسا شخص یقینی طور پر صرف آخرت کی باتیں کرے گا۔ دوسری چیزیں اس کے ذہن سے اس طرح نکل جائیں گی ۔ جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ کرنے کا کام زندگی میں سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔ خوف کا جذبہ آدمی کے فکر وعمل کی صلاحیتوں کو جتنا جگاتا ہے کوئی دوسری چیز اس کو اتنا نہیں جگاتی۔ دنیا کی تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی خوف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ معاشی بدحالی کا خوف، بے عزت ہونے کا خوف، برتر طاقت کا خوف، قوی دشمن کا خوف یا اور کوئی خوف۔ ہر آدمی کسی دیکھے یا ان دیکھے خوف کے تحت عمل کرتا ہے۔ خواہ وہ اس شعوری طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ مگر یہ تمام جھوٹے خوف ہیں۔ اصلی خوف جس کے تحت آدمی کو متحرک ہونا چاہیے ۔ وہ صرف ایک خدا کا خوف ہے۔ خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے تمام اندیشے وابستہ کیے جائیں۔ وہ تمام سرگرمیاں باطل ہیں جو کسی دوسرے خوف کی بنیاد پر ابھری ہوں۔ اور صرف وہی سرگرمی سچی سرگرمی ہے جو اللہ کے خوف کی بنیاد پر قائم ہو۔ خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ یہ واقعہ کافی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو صرف پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ ہر شخص کو بالآخر اپنے پاس بلائے گا۔ اس دن وہ ہر ایک سے اس کے قول وعمل کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے کارنامہ زندگی کے مطابق اچھا یا برا بدلہ دے گا۔ واقعہ کا یہ پہلو زندگی کے معاملہ کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دے دے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ سخت ترین سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page