Urdu book · اللہ اکبر

شرک اور کبر

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک اور کبر إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا (4:48)۔ یعنی، بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے۔ اور اس کے سوا جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ وَقَالَ رَسُول الله صلّى الله عَلَيْهِ وَسلم لا يدخل الجنّة من كان في قلبه مِثْقَالَ ذرة من كبر قيل فَمَا الكبير يا رَسُول الله قَالَ أن تسفه الحق وتغمض النَّاس أي تحقرهم ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 91)۔ یعنی، رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ پوچھا گیا کہ کبر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ خلاف واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کو بڑائی کا درجہ دیا جائے۔ یہی خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو بڑا سمجھ لے تو یہ کبر ہے اور اگروہ کسی دوسرے کو بڑا قرار دے تو اسی کا نام شرک ہے۔ خدا کی معرفت خدا کے سوا دوسری تمام عظمتوں کو ڈھا دیتی ہے بشمول اپنی عظمت کے۔ خدا کے سوا دوسروں کی عظمت ماننے کا نام شرک ہے اور اپنی عظمت ماننے کا نام کبر۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر قسم کے لوگوں کو بسنے کے مواقع ملے ہوئے ہیں۔ مگر آخرت کی دنیا آئیڈیل دنیا ہوگی۔ وہاں صرف وہی لوگ عزت کا مقام پائیں گے جنھوں نے موجودہ آزمائشی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ حقیقت واقعہ کی سطح پر جینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کبر اور شرک کی سطح پر جینا غیر حقیقی سطح پر جینا ہے۔ اس لیے جولوگ کبر اور شرک کی سطح پر زندگی گزاریں گے وہ آخرت کی ابدی دنیا میں بسنے کے لیے سراسر نا اہل ٹھہریں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page