Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت ان اعلی انسانوں کے لیے ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں۔ جہنم ان پست لوگوں کا مقام ہے جو غیر خدا کی بڑائی میں جئیں ، خواہ یہ جینا خود اپنی بڑائی میں ہو یا اپنے سوا کسی دوسرے کی بڑائی میں۔ عقیدۂ خدا شیر کو دیکھنے کی صورت یہ ہے کہ آپ اس کو مردہ عجائب خانہ میں دیکھیں ۔ اور دوسرا شیر وہ ہے جو کھلے جنگل میں نظر آتا ہے۔ مردہ عجائب خانہ میں شیر کی کھال کے اندر بھس وغیرہ بھر کر اس کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ بظاہر وہ شیر کی مانند ہوتا ہے مگر وہ صرف شیر کی صورت ہوتی ہے ، نہ کہ فی الواقع شیر۔ ایسے شیر کو لوگ صرف تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کوئی بھی شخص اس سے ڈرنے یا بھاگنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ مگر جنگل کا شیر ایک زندہ شیر ہے وہ ناقابل تسخیر قوت کا نشان ہے۔ وہ جب چلتا ہے تو سارا جنگل سہم اٹھتا ہے۔ وہ جب دھاڑتا ہے تو جانور دہشت زدہ ہو کر گر پڑتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر جنگل میں زندہ شیر کو دیکھ لے تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے تمام ہوش و حواس گم ہوجاتے ہیں۔ وہ ویسا نہیں رہتا ہے جیسا وہ اس کو دیکھنے سے پہلے تھا۔ اس مثال سے خدا کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خدا پر عقیدہ کی بھی دو صورتیں ہیں ۔ ایک ہے خدا پر تقلیدی عقیدہ۔ دوسرا ہے خدا پر زندہ عقیدہ۔ خدا پر تقلیدی عقیدہ ایک بے جان عقیدہ ہے۔ ایسا عقیدہ آدمی کی روح کو نہیں تڑپا تا۔ وہ اس کی رگوں میں بجلی بن کر نہیں دوڑتا۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ہلچل پیدا نہیں کرتا۔ خدا کے تقلیدی عقیدہ میں خدا کو ماننا ہوتا ہے ۔ مگر خدا سے ڈرنا نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page