Urdu book · اللہ اکبر

جھوٹی بڑائی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دیں گے: لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَوَّمْنَاكَ تَقْوِيْمَ الْقِدْحِ (کنز العمال، حدیث نمبر 14197)۔ بظاہر یہ نہایت سخت تنقید ہے اور بڑی گستاخی کی بات ہے مگر نہ عمر فاروق اس کو برا مانتے اور نہ سارے مجمع سے کوئی ایک شخص اٹھ کر یہ کہتا کہ تم نے ایسا کیوں کہا۔ اس طرح کے تنقیدی واقعات صحابہ کے درمیان روزانہ پیش آتے تھے۔ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔ مگر کبھی کسی نے اس کو برا نہ مانا۔ اگر کہا تو صرف یہ کہا کہ جو بات کہو تحقیق کے ساتھ کہو، نہ کہ بے تحقیق باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف رائے زنی کرنے لگو۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگ انسانوں کی عظمت میں نہیں جیتے تھے بلکہ صرف ایک خدا کی عظمت میں جیتے تھے۔ ان کے دل پر اس سے چوٹ نہیں لگتی تھی کہ کوئی شخص کسی انسان پر کیوں تنقید کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ بڑائی کا سارا حق صرف خدا کو دئے ہوئے تھے۔ اور انسانوں پر تنقید کرنے سے خدا کی بڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ میں اگر کسی شخصیت پر تنقید کر دیجیے تو خواہ وہ تنقید کتنی ہی علمی اور تحقیقی کیوں نہ ہو، اس کے معتقدین فوراً برہم ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں ہی کو اپنا بڑا بنائے ہوئے ہیں پھر وہ کیسے گوارا کر سکتے ہیں کہ ان کی بڑائی کا مینار گر جائے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ نماز اور اذان میں وہ اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کہتے ہیں مگر یہ صرف الفاظ ہیں جن کو لوگ زبان سے ادا کرتے ہیں ورنہ حقیقتۃً لوگ جس بڑائی میں جی رہے ہیں وہ انسان کی بڑائی ہے نہ کہ خدا کی بڑائی۔ لوگوں کو جاننا چاہیے کہ غیر اللہ کی بڑائی میں جینے کا موقع صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان و آزمائش کی مدت ختم نہ ہو۔ اس کے ختم ہوتے ہی اس کا موقع بھی ختم ہو جائے گا۔ پھر جن لوگوں کی غذا انسان کی جھوٹی بڑائی ہو۔ وہ اس وقت کس چیز کو اپنی غذا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page