Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر ریگن جیسے سن ہو گئے ۔ مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے غائب ہوگی ( ٹائمس آف انڈیا ، 31 مارچ 1981 ) ۔ یہ واقعہ اس صورت حال کی ایک تصویر ہے جو موت حملہ کے وقت اچانک آدمی پر طاری ہوگی ۔ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے کو آزاد سمجھ رہا ہے ۔ وہ نڈر ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ اگر کسی کو کچھ مال ہاتھ آ گیا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا مستقبل محفوظ ہے۔ کسی کو کوئی اقتدار حاصل ہے تو وہ اپنے اقتدار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے اس کا اقتدار کبھی چھٹنے والا نہیں۔ ہر آدمی پر اعتماد چہرہ لیے ہوئے ہے ۔ ہر آدمی ہنستے ہوئے اپنی لیموزین کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اس کے بعد اچانک پر دہ اٹھتا ہے۔ موت کا فرشتہ اس کو موجودہ دنیا سے نکال کر اگلی دنیا میں پہنچا دیتا ہے ۔ یہ ہر آدمی کی زندگی کا ایک انتہائی بھیانک لمحہ ہے۔ جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی اپنے اندازہ کے بالکل خلاف صورت حال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتا ہے ۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے وہ سب کچھ محض دھوکا تھا جس کو اس نے سب سے بڑی حقیقت سمجھ لیا تھا۔ میں نے اپنے کو آزاد سمجھا تھا مگر میں تو بالکل بے اختیار نکلا میں اپنے کو مال و جائیداد والا پا رہا تھا مگر میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں مگر یہاں تو میرا کوئی ایک بھی نہیں۔ آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے ۔ جھوٹی بڑائی حضرت عمر فاروق بحیثیت خلیفہ مدینہ میں تقریر کر رہے ہیں ۔ ایک شخص اٹھ کر کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگر ہم تمہارے اندر کوئی ٹیڑھ پائیں گے تو ہم تم کو تیر کی طرح سیدھا کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page