Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اگر دنیا میں اس طرح رہے کہ اس کے دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوئی ہوں۔ وہ دیکھنے والی چیزوں کو دیکھ رہا ہو تو ساری دنیا اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔ وہ ہر چیز میں خدا کا نور پائے گا۔ ہر چیز میں وہ خدا کی حکمت کو دریافت کرے گا۔ کائنات اس کے لیے ایک خدائی سمندر بن جائے گی۔ جس میں وہ نہائے۔ زمین و آسمان اس کے لیے خدا کی جلوہ گاہ بن جائیں گے جہاں وہ اپنے رب سے ملاقات کرے۔ خدا کا فیضان ہمارے گھر میں پہلے ایک میٹر بینڈ کا معمولی ٹرانسسٹر تھا۔ وہ صرف دہلی ریڈیو اسٹیشن پکڑتا تھا۔ ہم اس سے دہلی کی خبریں سن لیتے تھے۔ مگر دوسرے ملکوں کی نشریات سننا اس کے ذریعہ ممکن نہ تھا۔ کئی سال تک یہی چھوٹا ٹرانسسٹر ہمارے ریڈیائی نشریات سننے کا ذریعہ بنا رہا۔ اس کے بعد ہم نے چار میٹر بینڈ ریڈیوسٹ خریدا۔ یہ ریڈیوسٹ دنیا بھر کے تمام ملکوں کے ریڈیو اسٹیشن کو پکڑتا تھا۔ اس کے ذریعہ جب ہم نے بی بی سی اور دوسرے بیرونی اسٹیشنوں کو سنا تو معلوم ہوا کہ ہم کتنی بڑی دولت سے محروم تھے۔ ہر روز مختلف ممالک نہایت قیمتی پروگرام نشر کرتے ہیں۔ ان کو سننے سے زبردست فکری اور معلوماتی فائدے ہوتے ہیں۔ مگر اس علمی خزانہ سے مستفید ہونا ہمارے لیے اس وقت تک ممکن نہ ہو سکا جب تک کہ ہم نے بڑا ریڈیوسٹ اپنے لیے حاصل نہ کیا۔ خدا اور بندے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ خدا کا فیضان گویا ایک لامحدود نشرگاہ ہے۔ اس سے ہر لمحہ رزق رب کا مینہ برستا رہتا ہے۔ مگر آپ اس سے کتنا پائیں ، اس کا انحصا ر آپ کے اپنے ’’ ریڈیوسٹ‘‘ پر ہے۔ اگر آپ کا ریڈیوسٹ چھوٹا ہے تو آپ بہت کم چیزیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page