دین فطرت
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
دین فطرت اگر ایک آدمی کو سمندر میں سفر کرنا ہو تو وہ ایسا نہیں کرتا کہ جس طرح سے وہ خشک زمین پر چلتا ہے اسی طرح وہ اپنے پیروں پر چلتا ہوا سمندر میں داخل ہو جائے۔ بلکہ اس وقت وہ ایک کشتی تیار کرتا ہے اور کشتی میں بیٹھ کر سمندر میں اپنا سفر جاری کرتا ہے۔ جب ایک آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ گویا اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہے جس کے خود اپنے قوانین ہیں۔ وہ مجبور ہے کہ خدا کی اس خارجی دنیا سے کامل مطابقت کرے۔ آدمی اگر دنیا کو اپنی بنائی ہوئی دنیا سمجھتا تو وہ سمندر میں بھی اسی طرح چلنے لگتا جس طرح وہ خشکی پر چلتا ہے۔ عالم فطرت سے مطابقت کا یہ طریقہ تمام انسان اپنی زندگی کے ”50 فی صد“ حصہ میں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اس سے ذرا بھی انحراف نہیں کرتے۔ مگر زندگی کے بقیہ ”50 فیصد“ حصہ میں وہ اس کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ اسلام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دعوت دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصہ میں اسی طریقہ کو اختیار کرلے جس کو وہ اپنی زندگی کے پہلے نصف حصہ میں عملاً اختیار کیے ہوئے ہے۔ انسان کی زندگی کا ایک پہلو طبعی ہے اور دوسرا پہلو اخلاقی۔ انسان زندگی کے طبعی پہلو میں اسی طرح خدا کا مطیع ہے جس طرح بقیہ چیزیں خدا کی پوری طرح مطیع ہیں۔ مگر اپنی زندگی کے اخلاقی پہلو میں وہ خدا کے حکم کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلتا ہے، وہ اطاعت کے بجائے بغاوت کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسلام کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس تضاد کو ختم کردے۔ وہ صد فی صد خدا کا مطیع و فرماں بردار بن جائے۔ مادی دنیا میں قانون فطرت سے انحراف کا نتیجہ چوں کہ فوراً سامنے آجاتا ہے اس لیے آدمی مادی پہلوؤں میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔ مگر اخلاقی دنیا میں اس کے حقیقی نتائج فوراً نہیں نکلتے اس لیے یہاں آدمی خلاف ورزی کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader