Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کسان فصل بونے کے وقت قانون زراعت کی پیروی نہ کرے تو فصل کاٹنے کے دن وہ محروم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جو آدمی اخلاقی قوانین کی پیروی نہ کرے اس کے حصہ میں آخرت کے دن محرومی اور شرمندگی کے سوا کچھ نہ آئے گا۔ کائنات کی معنویت آر تھر کوئسلر (1905-1983) نے البرٹ آئن سٹائن (1879-1955) کا ایک قول نقل کیا ہے۔ اس نے کہا : "میں یہ مانتا ہوں کہ سائنسی تحقیق میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ اعلیٰ محرک جو چیز ہوتی ہے وہ کائناتی مذ ہبیت ہے۔ ایک معاصر سائنسی داں نے بجاطور پر کہا ہے کہ ہمارے موجودہ مادی دور میں بھی سنجیدہ علمی تحقیق کرنے والا ہی شخص ہو سکتا ہے جو گوہر امذ ہبی آدمی ہو۔" (ٹائمس آف انڈیا، 15 اکتوبر 1980)۔ I maintain that cosmic religiousness is the strongest and most noble driving force of scientific research. A contemporary has said, not unrightly, that the serious research scholar in our generally materialistic age is the only deeply religious human being. Einstein as quoted by Koestler in Janus. مذکورہ قول میں مذہبی ہونے کا مطلب ان دیکھی معنویت پر یقین کرنا ہے۔ سائنس داں جب اپنی تلاش میں نکلتا ہے تو اس وقت جو چیز اس کی رہنما بنتی ہے وہ اس کے اندر چھپا ہوا عقیدہ ہوتا ہے کہ کائنات میں وحدت اور معنویت ہے۔ اگر وہ اس یقین سے خالی ہو تو کبھی وہ اپنی تلاش میں سنجیدہ نہیں ہو سکتا۔ گویا با اعتبار حقیقت ایک سائنس داں اور ایک مذہبی انسان میں کوئی فرق نہیں۔ ایک مذہبی انسان کچھ اعمال کرتا ہے۔ ان اعمال کا مقصد خدا کو خوش کرنا یا آخرت کی دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page