اللہ اکبر
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
اے ایف پی نے پیرس سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ : With the deepening economic recession, more and more people are turning to the occult for relief for their physical and psychological ailments. گہرے اقتصادی بحران کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے لیے غیب دانوں سے رجوع کر رہے ہیں (ٹائمز آف انڈیا 5 مارچ 1985)۔ انسان کو بار بار یہ تجربہ ہوتا ہے کہ ظاہری مادی اسباب اس کا سہارا بننے کے لیے ناکافی ہیں۔ وہ معلوم اسباب سے مایوس ہو کر نا معلوم اسباب کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر نامعلوم اسباب کی تلاش میں کسی انسان کا سہارا پکڑنا سراسر بے حقیقت ہے۔ یہ ایسی چیز کا سہارا پکڑنا ہے جس کے اندر سہارا بننے کی طاقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سہارا صرف ایک ہے ۔ اور وہ خدا ہے۔ مادی اسباب کی بے مائیگی اس لیے تھی کہ آدمی خدا کی طرف رجوع کرے۔ مگر مادی اسباب کے عجز کا تجربہ اس کو ایک اور عاجز کی طرف متوجہ کر دیتا ہے ۔ حقیقت کا سراغ پانے کے بعد آدمی دوبارہ حقیقت کو کھو دیتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے بیٹے نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ماں کو مارا۔ ماں نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ اس کا مطلب کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک معاملہ جو بظاہر مار کا معاملہ تھا اس کو ماں نے محبت کا معاملہ بنا دیا۔ اس نے ”برائی“ کو ”بھلائی“ کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس نے ایک قابل سزا چیز کو قابل انعام قرار دے دیا۔ یہ واقعہ جو ہر گھر میں گزرتا ہے ، یہ خدا کی صفات کمال میں سے ایک صفت کی ہلکی سے جھلک ہے جو ماں کے رویہ کی صورت میں دکھائی گئی ہے۔ یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ خدا نے اپنی رحمتوں کے کیسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader