Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

(58:7 پھر کیا ڈاکو کی بات انہیں معنوں میں ہے جن معنوں میں وہ قرآن میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان لفظی مشابہت کے سوا کوئی اور چیز مشترک نہیں۔ ڈاکو نے کس معنی میں یہ بات کہی، وہ خود مذکورہ انٹرویو میں موجود ہے۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ ڈاکو کے ذریعہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کو ہم ٹولی کے درمیان بانٹتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ٹولی میں سات افراد ہیں تو ہم لوٹے ہوئے مال کے آٹھ حصے بناتے ہیں۔ سات حصے اپنے افراد کے لیے اور ایک حصہ خدا کے لیے۔ خدا کا جو حصہ ہے اس کو ہم کسی غریب کو دیدیتے ہیں۔ آمدنی کا ایک حصہ مذہب کے نام پر خدا کو دینا یہ تمام ڈاکوؤں کا طریقہ ہے۔ قرآن کا خدا خوف پیدا کرتا ہے اور ڈاکوؤں کا خدا بے خوفی۔ خدا اس لیے تھا کہ وہ آدمی کو ڈاکا کی بازی سے روکے۔ مگر ڈاکوؤں نے خدا کا حصہ لگا کر اس کو اپنے ڈاکا کا چوکیدار بنایا لیا۔ گویا جب وہ سات مل کر ڈاکہ ڈالیں تو خدا ان کا آٹھواں بن کر ان کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔ محرومی فرانس میں سحر و نجوم تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ 1984ء میں فرانس کے جن شہریوں نے ساحروں اور جوتشیوں سے رجوع کیا ان کی تعداد تقریباً آٹھ ملین ہے۔ یعنی فرانس کے ہر چار آدمیوں میں سے ایک آدمی۔ فرانس میں جوتش اور رغیب دانی باقاعدہ تجارتی پیشہ بن گئے ہیں۔ چنانچہ ٹیکس کے محکمہ کے مطابق پچاس ہزار افراد باقاعدہ محکمہ ٹیکس میں اس اعتبار سے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تعداد فرانس میں پادریوں یا ڈاکٹروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان لوگوں کی آمدنی 500 ملین سے لے کر 600 ملین ڈالر سالانہ تک ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page