Urdu book · اللہ اکبر

عجز کی تلافی

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

عجز کی تلافی خدا قادر مطلق ہے اور انسان عاجز مطلق۔ خدا اور انسان کے درمیان جو تقسیم ہے وہ زیادہ اختیار اور کم اختیار کی نہیں ہے بلکہ اختیار اور بے اختیاری کی ہے۔ یہاں سارا اختیار خدا کی طرف ہے اور ساری بے اختیاری انسان کی طرف۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسی تخلیق کا کیا جواز ہے جس میں انسان کو حقیقی طور پر کچھ دیا ہی نہ گیا۔ خدا کے لیے کیوں کر جائز تھا وہ ایسے انسان پیدا کرے جو سراسر عاجز ہوں، جن کو نہ اپنے آپ پر کوئی اختیار حاصل ہو اور نہ اپنے سے باہر کی دنیا پر۔ اس سوال کا صحیح جواب صرف وہ ہوسکتا ہے جس میں انسان کے عجز کی کامل تلافی موجود ہو۔ کامل تلافی سے کم کوئی چیز اس سوال کا حقیقی جواب نہیں بن سکتی۔ کامل تلافی کا مطلب یہ ہے کہ جو جواب دیا جائے اسی سطح پر ہو جو سوال کی سطح ہے۔ یعنی انسان کا عجز بذات خود اس کی بے اختیاری کی تلافی ہو جائے۔ اس سوال کا جواب قرآن میں اور پیغمبر کی تعلیمات میں واضح طور پر موجود ہے۔ اور وہ خدا کی یہ رحمت خاص ہے کہ اس نے صرف مانگنے کو پانے کے لیے کافی بنا دیا ہے۔ آدمی اگر حقیقی طور پر خدا سے مانگنے والا بن جائے تو یقینی طور پر وہ اپنے لیے پانے والا بھی بن جائے گا۔ انسان جب ذاتی اقتدار کا مالک نہیں تو وہ دیے ہی سے پاسکتا ہے۔ چنانچہ خدا نے اس کو اپنی طرف سے دے دیا۔ حقیقی دعا کے لیے قبولیت کی ضمانت ہونا یہی گو یا اس کو دے دینا ہے۔ حدیث میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ ــــ الدَّعْوَةُ لَا تُرَدُّ (مسند احمد، حدیث نمبر 13357)۔ یعنی، بندہ اپنے خدا کو اگر حقیقی طور پر پکارے تو اس کی پکار کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ حضرت مسیح نے اسی بات کو ان لفظوں میں فرمایا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page