اللہ اکبر
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤگے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پا تا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اسے پتھر دے دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اسے سانپ دے دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا (متی، 11، 7-7)۔ کائناتٰی نمونہ ایمرسن (1882-1803) کا قول ہے کہ فطرت اس اصول پر عمل کرتی ہے کہ ــ سب ہر ایک کے لیے اور ہر ایک سب کے لیے: Nature works on a method of 'all for each and each for all'. یہ ایک لفظ میں کائنات کے عمل کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔ مگر ان کا عمل حد درجہ توافق کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر چیز اس طرح عمل کرتی ہے کہ اس کا عمل دوسری تمام چیزوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اسی طرح تمام چیزیں اس طرح متحرک ہوتی ہیں کہ ان کی حرکت ہر واحد جزء سے کامل طور پر مطابق رہے۔ یہ گویا خدا کا ایک نمونہ ہے جو اس نے اپنی دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ انسان کو بھی اسی نمونہ پر چلنا ہے۔ انسانی آبادی میں بھی یہی نظام مطلوب ہے کہ ہر فرد اس طرح زندگی گزارے کہ اس سے دوسروں کو فائدے پہنچے اور مجموعی طور پر پوری انسانیت اس طرح کام کرے کہ اس کا کام فرد کی ترقی اور کامیابی میں معاون بن رہا ہو۔ فرد کا عمل جماعت سے ہم آہنگ ہو اور جماعت کا عمل فرد سے ہم آہنگ۔ کائنات کی صورت میں خدا نے ایک زندہ نمونہ قائم کر دیا ہے جو ہر صبح و شام لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader