زلزلہ درکار ہے
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ ایٹم کو توڑا جائے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ایک عظیم ربانی انسان چھپا ہوا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انفجار برپا کرے تا کہ اس کے اندر چھپا ہوا ربانی انسان باہر آسکے۔ ہر آدمی اصلاً فطرت خداوندی پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ماحول، روایات، خواہشات اور اس طرح کے دوسرے اسباب اس کے اوپر تہ بہ تہ پردے ڈال دیتے ہیں۔ آدمی ایک مصنوعی غلاف میں بند ہو کر رہ جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے اور جس کے مطابق وہ جیتا ہے۔ اسی مصنوعی پردہ کو پھاڑنے میں انسان کی تمام ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ اپنے ذہنی سانچہ کو توڑنا بلا شبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ مگر اسی مشکل ترین کام میں خدا نے تمام انسانی سعادتوں کا راز چھپا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں انسان جب اپنے شاکلہ کو توڑتا ہے تو اس کا شاکلہ خدا کے شاکلہ کے ہم سطح ہو جاتا ہے۔ اس کی ربانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ براہ راست خدائی فیضان کی زد میں آجاتا ہے۔ وہ محدودیت کی دنیا سے نکل کر ابدیت کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ خدائی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کا اخلاق خدائی اخلاق کے ہم رنگ ہو جاتا ہے، جس طرح بیج کے اندر ایک شاداب درخت چھپا ہوا ہے۔ مگر یہ درخت اسی وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ بیج ٹوٹے اور اپنے کو فنا کرنے کے لیے تیار ہو۔ اسی طرح ہر آدمی کے اندر ایک ربانی انسان چھپا ہوا ہے جو جنت کی حسین دنیا کا باسی بن سکے۔ مگر اس چھپے ہوئے انسان کا وقوع میں آنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ انسان اپنے اندر ایک زلزلہ پیدا کرنے کے لیے تیار ہو۔ وہ مصلحتیں اور محبوبات جن کو بچانے کے لیے آدمی اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے انہیں مصلحتوں اور محبوبات کا ٹوٹنا جنت کے دروازہ کا کھلنا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader