Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

His victory capped a political career spanning nearly 50 Years. 15 مارچ 1985 ء کو مسٹر نویس کی حلف برداری کی رسم صدارتی محل میں ادا کی جانے والی تھی کہ عین اس روز چند گھنٹہ پہلے وہ سخت بیمار پڑ گئے۔ انہیں فوری اسپتال لے جایا گیا۔ ملک کے سب سے بہتر اسپتال میں وہ ایک مہینہ تک ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں رہے۔ اس مدت میں ان کا سات بار آپریشن کیا گیا۔ مگر ساری کوشش ناکام ہو گئی۔ 21 اپریل 1985ء کو مسٹر نویس کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر 75 سال تھی۔ کیسا عجیب ہے انسان کا یہ انجام کہ وہ کوشش کرتا ہے مگر وہ اس کا پھل نہیں پاتا۔ اس کے لیے فتح کا تاج تیار کیا جاتا ہے مگر اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس کو اپنے سر کی زینت بنائے۔ اس کی کوششوں کی تکمیل اس کی بربادیوں کی تکمیل بن جاتی ہے۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا صرف عمل کرنے کی جگہ ہے۔ وہ پانے کی جگہ نہیں۔ پانے کی جگہ کوئی اور ہے جو اس کے ماورا ہے۔ زلزلہ درکار ہے خدا کی جنت جتنی نفیس ہے اتنی ہی بڑی قیمت اس کی ادا کرنی پڑتی ہے۔ جنت صرف ان حوصلہ مندوں کے لیے ہے جو بھونچال کی قیمت پر اس کو حاصل کرنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ جنت کو پانے کے لیے آدمی کو ایسے کٹھن مرحلہ سے گزرنا ہوتا ہے جس کو انسانی زبان میں صرف زلزلہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جو آدمی آخرت کی ابدی جنت کا طالب ہو اس کو سب سے پہلے اپنی ذات کے اندر زلزلہ لانا ہے۔ جس طرح ایٹم کے مجموعہ میں بے پناہ طاقت چھپی ہوتی ہے۔ مگر یہ طاقت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page