Urdu book · اللہ اکبر

خدا کی یافت

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی یافت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ - ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں ( 67:39 )۔ اس سلسلے میں ایک حدیث مختلف روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ آتی ہے۔ امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز منبر پر سورہ زمر کی مذکورہ آیت پڑھی: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ يُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ يَمْجُدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5414 ) ۔ یعنی، اور رسول اللہ اپنے ہاتھ کو حرکت دے رہے تھے اور آگے پیچھے ہو رہے تھے۔ اللہ اپنی بزرگی بیان کرے گا۔ اور کہے گا میں جبّار رہوں ۔ میں متکبر ہوں، میں بادشاہ ہوں ، میں عزیز و کریم ہوں۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ پر لرزہ طاری ہو گیا حتیٰ کہ ہم نے کہا آپ منبر کے ساتھ گر پڑیں گے ۔ جب ایک آدمی خدا کا حقیقی ادراک کرتا ہے تو اس کا حال وہی ہو جاتا ہے جو اوپر کی مثال میں خدا کے رسول کا نظر آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کو اس وقت حسی طور پر نہیں دیکھ رہے تھے ۔ مگر خدا کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے آپ کا جسم ہل گیا۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا کہ آپ زمین پر گر پڑیں گے۔ اس کا نام خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی معرفت اس مالک کائنات کی معرفت ہے جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page