Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑا ہے۔ جو سب سے طاقتور ہے۔ ایسے خدا کو پانا محض سادہ پانا نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر بھونچال کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ خدا کی معرفت خدا کو دیکھے بغیر دیکھ لینا ہے۔ یہ اس وقت خدا کے سامنے ڈھ پڑنا ہے جب کہ خدا ابھی زمین و آسمان کا پردہ پھاڑ کر عیا نآ انسان کے سامنے نہیں آیا ہے۔ معرفت ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سی، وی، رمن (1970-1888) سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں نے جو چیزیں دریافت کی ہیں ان میں ان کا اپنا کوئی خاص کارنامہ نہیں۔ یہ دریافتیں زیادہ تر اتفاقات کے نتیجہ میں حاصل ہوئیں۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا "ہاں، مگر ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے۔" دریافت دراصل ذہنی ترکیز (Concentration of Mind) کی قیمت ہے۔ جب آدمی کسی خاص موضوع پر اپنے ذہن کو پوری طرح لگا دیتا ہے تو اس موضوع کے بارے میں اس کو خاص بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ سوتے جاگتے ہر وقت اس کا ذہن اسی کے اندر مشغول رہتا ہے۔ اس موضوع کی دنیا سے اس کا بے حد قریب فکری رابطہ ہو جاتا ہے۔ سائنسی دریافتیں اکثر اسی قسم کے تر کیز فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جب ایک آدمی کسی چیز سے اتنا زیادہ اپنے کو متعلق کر لیتا ہے تو اس چیز کے بارے میں اس کو خاص پہچان حاصل ہو جاتی ہے۔ ذرا سا اشارہ دیکھتے ہی وہ اس کی پوری بات کو پکڑ لیتا ہے۔ دریافت اکثر حالات میں جزء سے کل تک پہنچنے کا دوسرا نام ہوتی ہے، اور اس قسم کا پہنچنا ہمیشہ اسی کے لیے ممکن ہوتا ہے جو پہلے سے اس موضوع میں لگا ہوا ہو اور اس کی بابت پوری آگہی رکھتا ہو۔ یہ بات جو سائنسی معرفت کے لیے صحیح ہے۔ یہی دینی معرفت کے لیے بھی درست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page