Urdu book · اللہ اکبر

پانے والا

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (28:80)۔ یعنی، اور یہ بات انہیں کو دی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ یعنی حقیقت کا یہ مقام کہ آدمی دنیا کی شان و شوکت سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ بڑے تپ کا مقام ہے۔ یہ انہیں لوگوں کے حصہ میں آتا ہے جو دنیا کی زینتوں کی طرف دوڑنے سے اپنے کو بچائیں۔ جو اپنی سوچ اور اپنی دلچسپیوں کو نمائش کی چیزوں میں نہ الجھائیں۔ جو وقتی ہنگاموں میں کھونے کے بجائے ابدی کائنات میں مصروف رہتے ہوں۔ جو دنیا سے گزر کر آخرت میں جینے لگے ہوں۔ یہ بڑے تپ کا کام ہے۔ اس میں اپنے آپ کو جانتے بوجھتے ذبح کر دینا پڑتا ہے۔ مگر اعلیٰ سچائی کو پانے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ رجھانے والی دنیا میں رہ کر جو اپنے آپ کو رکھنے سے بچا سکے اسی پر بالاتر حقیقتوں کا راز کھلتا ہے۔ جو سامنے کی چمک دمک میں کھو گیا وہ کبھی آگے کی اعلیٰ تر چیزوں سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ دنیوی ہوشیاری دکھانا بلا شبہ دنیا میں آدمی کو عزت اور ترقی عطا کرتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ”دنیوی ہوشیاری“ ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو آخرت کی ہوشیاری سے محروم کر دیتی ہے۔ آخرت کی عقل اسی کے حصے میں آتی ہے جو دنیا کی محرومیوں کو جھیلنے کے لیے تیار ہو، جو دنیوی مصلحتوں کو حق کی خاطر قربان کر سکے، جو ظاہری عزتوں پر گمنامی کی زندگی کو ترجیح دے سکے، جو عوامی مقبولیت کو عوامی نامقبولیت کے بدلے میں دے سکے ، جو ملتے ہوئے مفادات کی قیمت دے کر ذاتی نقصان کو خرید سکے، جو نفس کی تسکین کر چھوڑ کر نفس کو دبانے کے راستہ پر چلنے کے لیے تیار ہو۔ دنیا کی رونقوں میں نہ بہنا بڑا پر مشقت عمل ہے مگر اسی شخص پر معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں جو اس مشقت کو برداشت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page