Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ شری موتی رام جوہری تھے۔ وہ ہیرے کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچان سکتے تھے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ مگر شری رام رتن کپلا صرف اس ہیرے سے واقف تھے جو ان کے معلوم نیکلس میں لگا ہوا ہو۔ معلوم نیکلس کے باہر کسی ہیرے کے ٹکڑے کو پہچاننا انہیں نہیں آتا تھا۔ وہ شخص جوہری نہیں جو ہیرے کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ وہ اس کے اپنے ہار میں لگا ہوا ہو۔ جوہری وہ ہے جو ہیرے کو اپنے ہار میں بھی پہچانے اور دوسرے کے ہار میں بھی۔ اسی طرح حق شناس وہ ہے جو حق کو ہر حال میں پہچان لے، خواہ وہ اس کے اپنے حلقہ کے اندر ہو یا اس کے اپنے حلقہ کے باہر۔ پانے والا قرآن میں جو کردار بیان ہوئے ہیں، ان میں سے ایک قارون ہے۔ وہ اسرائیلی تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔ مصر کے قبطی حکمرانوں کا ساتھ دے کر اس نے بے حساب دولت اپنے پاس جمع کرلی تھی۔ ایک روز وہ اپنی پوری شان کے ساتھ لوگوں کے سامنے نکلا۔ اسرائیلیوں میں سے کچھ لوگ اس کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے۔ انھوں نے کہا: قارون بھی کیسا خوش قسمت ہے۔ کاش ہم کو بھی وہ چیز حاصل ہوتی جو اس کو ملی ہوئی ہے۔ اسرائیلیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو سچائی کو پائے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: قارون کی دنیوی شان وشوکت پر رشک نہ کرو۔ ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل خوش قسمتی تو یہ ہے کہ آدمی کو آخرت کی کامیابی حاصل ہو۔ اور آخرت کی کامیابی کا کوئی تعلق دنیا کی چمک دمک سے نہیں ہے۔ وہ تو صرف انہیں کو ملے گی جو سچے مومن ہوں اور وہ کام کریں جو اللہ کو پسند ہے۔ اسرائیلی علماء کا یہ جواب نقل کرنے کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وَلَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page