فتح مبین کا راز
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح مبین کا راز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طور پر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پرامن ماحول قائم ہو سکے۔ صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لیے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کو چھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لیے راضی ہو جائے۔ اس دنیا میں کامیاب اقدام کی خوش قسمتی صرف اس کو ملتی ہے جو دوسروں کو راستہ دینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہو۔ اب اس اصول کی روشنی میں کشمیر کے مسئلہ کو سمجھیے۔ پاکستان کے لیڈروں نے کشمیر کے نزاع کو حل کرنے کے لیے جو پالیسی اختیار کی، وہ مکمل طور پر نا کام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں مذکورہ قرآنی اصول کو اختیار کرنے میں نا کام رہے ۔ انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader